ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہشت گردانہ حملے حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں؛ ڈوڈہ حملے پر اپوزیشن کی حکومت پر تنقید

دہشت گردانہ حملے حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں؛ ڈوڈہ حملے پر اپوزیشن کی حکومت پر تنقید

Wed, 17 Jul 2024 11:44:10    S.O. News Service

نئی دہلی، 17/جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) جموں کشمیر کے ڈوڈہ میں پیر کو ہونیوالے دہشت گردانہ حملے میں چار جوانوں کے شہید ہونے پر اپوزیشن نےمودی حکومت پر زور دار حملہ کرتے ہوئے اس کو بی جے پی کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ کانگریس نے گزشتہ ۳۸؍ دنوں میں ۹؍بڑے دہشت گردانہ حملوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے پتہ چلتا ہےکہ جموںکشمیر کی صورتحال خراب ہے اور یہاں  لوگ ڈر وخوف کے ماحول میں جینے پر مجبور ہیں۔ پارٹی نے اس پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر بھی تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ ان کی ناکامی کا خمیازہ ہمارے جوانوں اور ان کے اہل خانہ کو بھگتنے پر مجبور ہونا پڑر ہاہے۔

 لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی وزیر اعظم مودی پر نشانہ سادھا۔ انہوںنے شہید جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور سوگوار خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یکے بعد دیگرےاس طرح کے خوفناک واقعات انتہائی قابل افسوس اور تشویشناک ہیں۔یہ دہشت گردانہ حملے جموں کشمیر کی خراب صورتحال کو ظاہر کررہے ہیں۔بی جے پی کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ ہمارے فوجی اور ان کے اہل خانہ بھگتنے پر مجبور ہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا ’’ہر محب وطن ہندوستانی کا مطالبہ ہے کہ حکومت بار بار کی سیکوریٹی کی چُوک کی مکمل ذمہ داری قبول کرے اور ملک اورجوانوں کے مجرمین کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے۔دکھ کی اس گھڑی میں پورا ملک دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔‘‘

 دوسری طرف بی جے پی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سبرامنیم سوامی نے بھی جموںکشمیر میں دہشت گردانہ حملوں پر وزیر اعظم پر نشانہ سادھا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ہمارے وزیر داخلہ ایک مہذب انسان ہیں۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں کئی جوانوں کے شہید ہونے پر صدمہ پہنچا ہے۔ لیکن وہ کیا کریں گے؟سوامی نے طنز کرتے ہوئے کہا’’کیا مودی نے ان سے کہا کہ یہاں  باہر سے کوئی آیا نہیں اورکسی کی موت نہیں ہوئی۔‘‘

 جموں خطے میں بڑھتے ہوئے حملوں کے بیچ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں کشمیر کے پولیس سربراہ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جموں خطے میں جوانوں کے جان بحق ہونے پر کوئی جوابدہی نہیں ہے۔ان باتوں کا اظہار محبوبہ مفتی نے سری نگر میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ۳۲؍مہینوں کے دوران ملی ٹینٹ حملوں میں۵۲؍فوجی جوان جاں بحق ہوئے ہیں تاہم سرکار کی جانب سے کوئی احتساب نہیں ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ گزشتہ رات ڈوڈہ میں ملی ٹینٹوں کی فائرنگ میں ایک سینئر آفیسر سمیت پانچ اہلکار جاں بحق ہوئے ۔ محبوبہ مفتی نے ڈی جی پی آر آر سیون پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’سیاسی طور پر چیزوں کو ٹھیک کرنے‘‘ میں زیادہ مصروف ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا :’’موجودہ پولیس سربراہ آر آر سوین سیاسی طورپر معاملات ٹھیک کرنے میں مصروف عمل ہے، ان کا کام یہ رہا ہے کہ پی ڈی پی کے لوگوں کو کیسے توڑا جائے ، عام شہریوں اور صحافیوں کے کیسے ہراساں کیا جائے اور لوگوں پر یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج کرنے کے طریقے ڈھونڈے جارہے ہیں ۔‘‘ محبوبہ مفتی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کل پولیس چیف نے دراندازی کے لئے علاقائی سیاسی جماعتوں کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ نے پولیس سربراہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ دراندازی کو روکنا محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کا کام نہیں بلکہ یہ سیکوریٹی ایجنسیوں کا کام ہے۔

  جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ضلع ڈوڈہ میں سیکوریٹی فورسیز پر ہوئے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوانوں کی موت کا بدلہ لیا جائے گا اور جنگجوؤں اور انکے ساتھیوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے شہید جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ 

 وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے   ۴؍ فوجیوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ’’ڈوڈہ میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران فوج کے چار بہادر جوانوں کی ہلاکت سے بہت دکھ ہوا ہے، سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت۔ قبل ازیں وزیر دفاع نے آرمی چیف جنرل اوپیندر ترویدی سے بات کی اور انسداد دہشت گردی آپریشن کے بارے  میں معلومات حاصل کی تھی۔ 


Share: